مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » حج ۔ استطاعت

۱ سوال: ریٹائرمینٹ کے بعد ملنے والے پیسے سے، کیا انسان مستطیع ہو جاتا ہے؟
جواب: اگر وہ پیسہ اتنی مقدار میں ہو کہ حج بجا لاے، اور انسان قرض دار نہ ہو اور اس کی ضرورت سے زیادہ ہو تو حج اس پر واجب ہو جائے گا۔
۲ سوال: حج کے لیے جانی اور مالی طور پر استطاعت رکھنے کے باوجود، کسی بہت اہم داخلہ کے امتحان (جیسے میڈیکل انٹرینس) کی خاطر حج میں تاخیر کر سکتا ہے ؟
جواب: اگر اس امتحان میں شرکت نہ کرنا اس کے لیے مشقت اور حرج کا سبب بن سکتا ہو تو اس سال اس پر حج واجب نہیں ہے۔
۳ سوال: حج کے لیے بینک میں جمع کیے گیے پیسے پر ملنے والے منافع کے پیسے سے حج کیا جا سکتا ہے؟
جواب: اگر شرعی قرارداد کی صورت میں ہو تو صحیح ہے۔
۴ سوال: کیا استطاعت ہونے کی صورت میں عمرہ مفردہ واجب ہے؟
جواب: وہ لوگ جن پر حج تمتع واجب ہے، ان پر عمرہ مفردہ واجب نہیں ہے۔
۵ سوال: کیا حج تمتع کے رجسٹریشن میں دیے جانے والے پیسے پر ایک سال گزرنے کے بعد خمس واجب ہے؟
جواب: حج واجب نہ ہونے کی صورت میں خمس واجب ہے۔
۶ سوال: اگر کسی طالب علم کے یونیورسٹی کا امتحان حج کے موسم میں پڑ جائے اور وہ امتحان اس کی زندگی کے لیے نہایت اہم ہو تو کیا وہ حج کو آئندہ سال کے لیے چھوڑ سکتا ہے؟
جواب: اگر اسے اس بات کا اطمینان ہو کہ وہ اگلے سال حج پر چلا جائے گا تو ایسا کرنا جایز ہے، ورنہ حج میں تاخیر نہیں کر سکتا اور اگر امتحان میں تاخیر کرنا اس کے لیے سختی اور مشقت کا سبب بن سکتا ہو تو حج اس سال واجب نہیں ہوگا اور وہ مستطیع شمار نہیں ہوگا۔
۷ سوال: ایک جوان کچھ عرصہ پہلے مستطیع ہوا ہے اس پر حج واجب ہو چکا ہے مگر چونکہ وہ شادی کرنا چاہتا ہے اور حج کرنے کی صورت میں اس کی شادی آگے بڑھ سکتی ہے، لہذا اس کا فریضہ کیا ہے شادی مقدم ہے یا حج؟
جواب: حج پر جائے اور شادی میں تاخیر ہو جانے دے اور ایسا کرنا اگر اس کے لیے مشقت اور حرج ہو تو اس صورت میں شادی مقدم ہے۔
۸ سوال: کیا استطاعت ہونے کی صورت میں عمرہ مفردہ واجب ہے؟
جواب: جس شخص کا وظیفہ مستطیع ہونے کی صورت میں حج تمتع ہے عمرہ مفردہ اس پر واجب نہیں ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلیک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français